نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
اللہ اللہ اسدِ حق کے نواسوں کا جلالچاند سے چہروں پہ بل کھائے ہوئے زلفوں کے بالنیمچے کاندھوں پہ رکھے ہوئے، مانندِ ہلالگرچہ بچپن تھا، پہ رستم کو سمجھتے تھے وہ زالصف سے گھوڑوں کو بڑھا کر جو پلٹ جاتے تھےمورچے لشکرِ کفار کے ہٹ جاتے تھے
About this couplet
This is couplet 34 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۴ / ۱۰۲