نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
آستینوں کو چڑھائے ہوئے آمادۂ جنگوہی سارا اسد اللہ کا نقشہ، وہی ڈھنگسرخ چہرے تھے کہ شیروں کا یہی ہوتا ہے رنگولولہ صف کے الٹنے کا، لڑائی کی امنگجسم پر تیر چلیں، نیزۂ خونخوار چلےشوق اس کا تھا کہ جلدی کہیں تلوار چلے
About this couplet
This is couplet 35 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۵ / ۱۰۲