نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

دوپہر میں وہ چمن بادِ خزاں نے لوٹاپتا پتا ہوا تاراج تو بوٹا بوٹاباپ بیٹے سے چھٹا، بھائی سے بھائی چھوٹاابنِ زہراؔ کی کمر جھک گئی بازو ٹوٹاپھر سے نہ یاور، نہ وہ جاں باز نہ وہ شیدا تھےظہر کے وقت حسینؔ ابنِ علی تنہا تھے

About this couplet

This is couplet 44 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۴ / ۱۰۲