نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

ساتھ جو جو کہ بہادر تھے، وطن سے آئےسامنے سوتے تھے ریتی پہ سنائیں کھائےدھوپ میں پیاس سے مثلِ گلِ تر مرجھائےمرگئے پر نہ غریبوں نے کفن تک پائےدھوپ پڑتی تھی یہ دن چرخ نے دکھلایا تھانہ تو چادرتھی کسی لاش پہ نے سایا تھا

About this couplet

This is couplet 45 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۵ / ۱۰۲