نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

بڑھ کے چلاتے تھے بے درد کہ اب آپ آئیںجوہر تیغِ شہنشاہِ نجف دکھلائیںمرنے والے نہیں جیتے جو سنائیں کھائیںکاٹ لیں آپ کا سر تن سے تو فرصت پائیںپسرِ سعد سے وعدہ ہے، صلا لینے کاحکم ہے خیمۂ اقدس کے جلا دینے کا

About this couplet

This is couplet 47 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۷ / ۱۰۲