نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
صاحبِ فوج پہ طاری تھا عجب رنج و ملالزرد تھا رنگ، تو آنکھیں تھیں لہو رونے سے لالکبھی بھائی کا الم تھا، کبھی بیٹے کا خیالکبھی دھڑکا تھا کہ لاشیں نہ کہیں ہوں پامالکبھی بڑھتے تھے وغا کو، کبھی رک جاتے تھےسیدھے ہوتے تھے کبھی، اور کبھی جھک جاتے تھے
About this couplet
This is couplet 46 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۶ / ۱۰۲