نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

آپ سیدھے جو ہوئے رخش نے بدلے تیوردونوں آنکھیں ابل آئیں کہ ڈرے بانیِٔ شرتھوتھنی مل گئی سینے سے کیا، دُم کو چنورمثلِ طاؤس اڑا، گاہ اِدھر، گاہ اُدھردم بدم گرد نسیمِ سحری پھرتی تھیجھوم کر پھرتا تھا، گویا کہ پری پھرتی تھی

About this couplet

This is couplet 70 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۰ / ۱۰۲