نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
ابر ڈھالوں کا اٹھا تیغِ دو پیکر چمکیبرق چھپتی ہے، یہ چمکی تو برابر چمکیسوئے پستی کبھی کوندی، کبھی سر پر چمکیکبھی انبوہ کے اندر، کبھی باہر چمکیجس طرف آئی وہ ناگن اسے ڈستے دیکھامینہ سروں کا صفِ دشمن میں برستے دیکھا
About this couplet
This is couplet 71 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۱ / ۱۰۲