نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

تیغیں آری ہوئی ڈھالوں کے اڑے پرکالےبند سب بھول گئے خوف سے نیزوں والےجو بڑھے ہاتھ سرِ دست قلم کر ڈالےتیغ کہتی تھی، یہ سب ہیں مرے دیکھے بھالےصف بہ صف باندھ کے نیزوں کو عبث تولے ہیںایسے عقدے مرے ناخن نے بہت کھولے ہیں

About this couplet

This is couplet 74 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۴ / ۱۰۲