نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

اک اشارے میں، برابر کوئی دو تھا کوئی چارنہ پیادہ کوئی بچتا تھا سلامت نہ سواربرق گرتی تھی کہ چلتی تھی صفوں پر تلوارغضب اللہ علیہم کے عیاں تھے آثارموت ہر غول کو برباد کیے جاتی تھیآگ گھیرے ہوئے دوزخ میں لیے جاتی تھی

About this couplet

This is couplet 73 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۳ / ۱۰۲