نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

تھم گئے سن کے یہ آواز شۂ جن و بشرروک کر تیغ کو فرمایا کہ حاضر ہے یہ سرعید ہو جلد اگر ذبح کریں بانیِ شرشمرِؔ اظلم ہے کدھر؟ کھینچ کے آئے خنجرہے وہ عاشق جو فدا ہونے کو موجود رہےبس مری فتح یہی ہے کہ وہ خوشنود رہے

About this couplet

This is couplet 91 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۱ / ۱۰۲