نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
کہہ کے یہ میان میں مولا نے رکھی تیغِ دو دمہاتھ اٹھا کر یہ اشارہ کیا گھوڑے کو کہ تھمرہ گیا سر کو جھکا کر فرسِ تیز قدمچار جانب سے مسافر پہ چلے تیرِ ستمنیزے یوں گرد تھے جسے گلِ تر خاروں میںگھر گئے سبطِ نبی، ظلم کی تلواروں میں
About this couplet
This is couplet 92 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۲ / ۱۰۲