نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
ہاتھ سے باگ جدا تھی، تو رکابوں سے قدمغش میں سیدھے کبھی ہوتے تھے فرس پر کبھی خمبہتے تھے پہلوؤں سے، خوں کے دڑیڑے پیہمکوئی بیکس کا مددگار نہ تھا ہائے ستممارے تلواروں کے مہلت تھی نہ دم لینے کیکوششیں ہوتی تھیں کعبے کے گرادینے کی
About this couplet
This is couplet 95 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۵ / ۱۰۲