نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
برچھیاں مارتے تھے، گھاٹ پہ جو تھے پہرےکس طرف جائے، کہاں تیغوں میں بیکس ٹھہرےایک ہزار اور کوئی سو زخم تھے تن پر گہرےدیکھنے والوں کے ہو جاتے تھے، پانی زہرےخوں میں ڈوبا ہوا وہ مصحفِ رخ سارا تھاجزو ہر اک تن شبیر کا سی پارا تھا
About this couplet
This is couplet 94 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۴ / ۱۰۲