نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
نہ رہا جب کہ ٹھہرنے کا فرس پر یاراگرپڑا خاک پہ، وہ عرش خدا کا تاراغش سے کچھ دیر میں چونکا جو علیؔ کا پیارانیزہ سینے پہ، سناں ابنِ انس نے ماراواں تو نیزے کی انی پشت سے باہر نکلییاں بہن خیمے کی ڈیوڑھی سے کھلے سر نکلی
About this couplet
This is couplet 98 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۸ / ۱۰۲