نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
کھینچ کر سینے سے نیزہ جو ہٹا دشمنِ دیںجھک کے حضرت نے رکھی خاک پہ سجدے میں جبیںتیز کرتا ہوا خنجر کو بڑھا شمر لعیںآسماں ہل گئے تھرا گئی مقتل کی زمیںکیا کہوں تیغ کو کس طرح گلے پر رکھاپاؤں قرآں پہ رکھا، حلق پہ خنجر رکھا
About this couplet
This is couplet 99 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۹ / ۱۰۲