کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے
چمکی گری اٹھی ادھر آئی اُدھر گئیخالی کیے پرے تو صفیں خوں میں بھر گئیکاٹے کبھی قدم کبھی بالائے سر گئیندی غضب کی تھی کہ چڑھی اور اتر گئیاک شور تھا یہ کیا ہے جو قہر صمد نہیںایسا تو رودِ نیل میں بھی جزر و مد نہیں
About this couplet
This is couplet 114 of 149 in “کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۴ / ۱۴۹