کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے
سر خود سروں کے چنبر گردن سے اڑ گئےہاتھ آستیں سے اڑ گئے سر تن سے اڑ گئےڈر ڈر کے سب پرند نشیمن سے اڑ گئےپائی جو راہ طائرِ جاں سَن سے اڑ گئےتھے قتلِ عام پر علیؔ اکبر تلے ہوئےرستے تھے بند زخموں کے کوچے کھلے ہوئے
About this couplet
This is couplet 115 of 149 in “کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۵ / ۱۴۹