کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

آئی جدھر پلٹ کے صفوں کو بچھا گئیتن سے اڑا دیا وہی سر جس کو پا گئیہر اک کڑی کو نرم سمجھ کر چبا گئیفولاد کی زرہ کو اشارے میں کھا گئیچار آئینہ کا کاٹ بھی اس پر حوالہ تھاذکر اس کا کیا ہے خود تو منہ کا نوالہ تھا

About this couplet

This is couplet 117 of 149 in “⁨کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۷ / ۱۴۹