کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے
یارا قرار کا تھا نہ صورت فرار کیپیدل کی موت تھی تو خرابی سوار کیروئیں تنوں کو، تاب نہ تھی ایک وار کیٹکڑے تھے دو کے ہاتھ یہ گھائی تھی چار کیآگے بڑھے تو منہ وہیں کٹ جائے گیو کابجلی کی تھی کڑک کہ طمانچہ تھا دیو کا
About this couplet
This is couplet 118 of 149 in “کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۸ / ۱۴۹