فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
غش ہو گئی سن کر یہ بیاں زینبؔ پُر غمخیمے میں اسی رات سے برپا ہوا ماتمبیدار رہیں صبح تلک بیبیاں باہمخیموں کو اکھڑوا کے چلے قبلۂ عالمآخر وہی صحرا، وہی جنگل نظر آیاتھی دوسری تاریخ کہ مقتل نظر آیا
About this couplet
This is couplet 112 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۲ / ۱۱۴