فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
اترے اسی میدانِ بلا خیز میں سروراستادہ ہوئے، خیمۂ ناموسِ پیمبرصحرا کی طرف دیکھ کے خوش ہو گئے اکبرؔدریا پہ ٹہلنے لگے عباسِؔ دلاورشہہ بولے ہوا نہر کی بھائی تمہیں بھائیہاں شیر ہو دریا کی ترائی تمہیں بھائی
About this couplet
This is couplet 113 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۳ / ۱۱۴