فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
یاد آتی ہے ہر دم مجھے اماں کی مصیبتکچھ جان کی تھی فکر نہ ان کو دمِ رحلتآہستہ یہ فرماتی تھیں باصد غم و حسرتشبیرؔ سدھارے جو سوئے وادیِٔ غربتاس دن مری تربت سے بھی منہ موڑیو زینبؔاس بھائی کو تنہا نہ کبھی چھوڑیو زینبؔ
About this couplet
This is couplet 19 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۹ / ۱۱۴