فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

اماں کی وصیت کو بجا لاؤں نہ کیوں کرگھر بھائی سے تھا بھائی نہ ہوگا تو کہاں گھردو بہنیں ہیں ماں جائیاں اور ایک برادررسی سے بندھے ہاتھ کہ بلوے میں کھلے سرجو ہووے سو ہو بھائی کے ہمراہ ہے زینبؔاس کوچ کے انجام سے آگاہ ہے زینبؔ

About this couplet

This is couplet 20 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۰ / ۱۱۴