فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
رخصت کرو ان کو جو کہ ہیں ملنے کو آئےکہہ دو کوئی گہوارۂ اصغر کو بھی لائےنادان سکینہؔ کہیں آنسو نہ بہائےجانے کی خبر میری نہ صغراؔ کہیں پائےڈر ہے کہیں گھبرا کے نہ دم اس کا نکل جائےباتیں کرو ایسی کہ وہ بیمار بہل جائے
About this couplet
This is couplet 22 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۲ / ۱۱۴