فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
یہ کہتی تھی زینبؔ کہ پکارے شہِ عادلتیار ہیں دروزاے پہ سب ہودج و محملطے شام تلک ہوگی کہیں آج کی منزلرخصت کرو لوگوں کو بس اب رونے سے حاصلچلتی ہے ہوا سرد ابھی وقت سحر ہےبچے کئی ہمراہ ہیں گرمی کا سفر ہے
About this couplet
This is couplet 21 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۱ / ۱۱۴