فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
سن کر یہ سخن بانوئے ناشاد پکاریمیں لٹتی ہوں کیسا سفر اور کیسی سواریغش ہو گئی ہے فاطمہؔ صغرا مری پیارییہ کس کے لئے کرتے ہیں سب گریہ و زاریاب کس پہ میں اس صاحبِ آزار کو چھوڑوںاس حال میں کس طرح سے بیمار کو چھوڑوں
About this couplet
This is couplet 24 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۴ / ۱۱۴