فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
ماں ہوں میں، کلیجہ نہیں، سینہ میں سنبھلتاصاحب مرے دل کو ہے کوئی ہاتھوں سے ملتامیں تو اسے لے چلتی، یہ کچھ بس نہیں چلتارہ جاتیں جو بہنیں بھی تو دل اس کا بہلتادروازے پہ تیار سواری پہ کھڑی ہےپر اب تو مجھے جان کی صغراؔ کی پڑی ہے
About this couplet
This is couplet 25 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۵ / ۱۱۴