فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
ہشیار ہو کیا صبح سے بیہوش ہے خواہراصغرؔ کو کرو پیار کلیجے سے لگا کرچھاتی سے لگو اٹھ کے کھڑی روتی ہیں مادرہم روتے ہیں دیکھو تو ذرا آنکھ اٹھا کرافسوس، اسی طور سے غفلت میں رہو گیکیا آخری بابا کی زیارت نہ کرو گی
About this couplet
This is couplet 27 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۷ / ۱۱۴