فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
چلاتی تھی کبراؔ کہ بہن آنکھ تو کھولوکہتی تھی سکینہؔ کہ ذرا منہ سے تو بولوہم جاتے ہیں تم اٹھ کے بغل گیر تو ہو لوچھاتی سے لگو باپ کی دل کھول کے رو لوتم جس کی ہو شیدا وہ برادر نہ ملے گاگھر بھر میں جو ڈھونڈو گی تو اکبر نہ ملے گا
About this couplet
This is couplet 26 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۶ / ۱۱۴