فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
یہ گھر کا سب اسباب گیا کس لئے باہرنہ فرش، نہ ہے مسندِ فرزند پیمبردالان سے کیا ہوگیا گہورۂ اصغرؔاجڑا ہوا لوگو نظر آتا ہے مجھے گھرکچھ منہ سے تو بولو مرا دم گھٹتا ہے اماںکیا سبطِ پیمبر سے وطن چھٹتا ہے اماں
About this couplet
This is couplet 31 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۱ / ۱۱۴