فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

شبیرؔ کا منہ تکنے لگی بانوئے مغمومصغراؔ کے لئے رونے لگیں زینبؔ و کلثومؔبیٹی سے یہ فرمانے لگی سیدِ مظلومپردہ رہا اب کیا تمہیں خود ہوگیا معلومتم چھٹتی ہو اس واسطے سب روتے ہیں صغراؔہم آج سے آوارہ وطن ہوتے ہیں صغراؔ

About this couplet

This is couplet 32 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۲ / ۱۱۴