فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

وہ بات نہ ہوگی، کہ جو بے چین ہوں مادرہر صبح میں پی لوں گی دوا آپ بنا کردن بھر، مری گودی میں رہیں گے علی اصغرؔلونڈی ہوں سکینہؔ کی، نہ سمجھو مجھے دخترمیں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دوبابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو

About this couplet

This is couplet 37 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۷ / ۱۱۴