فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

کیا تاب اگر منہ سے کہوں درد ہے سر میںاف تک نہ کروں، بھڑکے اگر آگ جگر میںبھولے سے بھی شب کو نہ کراہوں گی سفر میںقربان گئی، چھوڑ نہ جاؤ مجھے گھر میںہو جانا خفا راہ میں گر روئے گی صغراؔیاں نیند کب آتی ہے جو واں سوئے گی صغراؔ

About this couplet

This is couplet 36 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۶ / ۱۱۴