فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

کیا ان کو پڑی تھی جو وہ غم کھانے کو آتےمیں کون جو صورت مجھے دکھلانے کو آتےہوتی جو غرض چھاتی سے لپٹانے کو آتےزلفیں جو الجھتی تو، سلجھوانے کو آتےکل تک تو مرے حالِ پریشاں پہ نظر تھیتقدیر کے اس پیچ کی مجھ کو نہ خبر تھی

About this couplet

This is couplet 43 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۳ / ۱۱۴