فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
مانوس سکینہؔ سے ہیں عباسؔ دلاورمیں کون ہوں جو میری خبر پوچھتے آ کرسرسبز رہے خلق میں نو بادۂ شبّرشادی میں بلائیں مجھے یہ بھی نہیں باوربے دولہا بنے منہ کو چھپاتے ہیں ابھی سےمیں جیتی ہوں اور آنکھ چراتے ہیں ابھی سے
About this couplet
This is couplet 44 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۴ / ۱۱۴