فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
ہے قبر پہ نانا کی مقدم مجھے جاناکیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہو شہر میں آنااماں کی ہے تربت پہ ابھی اشک بہانااس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگاناآخر تو لیے جاتی ہے تقدیرِ وطن سےچلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسنؔ سے
About this couplet
This is couplet 66 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶۶ / ۱۱۴