فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
پیدل شہِ دیں روضۂ احمد کو سدھارےتربت سے صدا آئی کہ آ آ مرے پیارےتعویذ سے شبیرؔ لپٹ کر یہ پکارےملتا نہیں آرام نواسے کو تمہارےخط کیا ہیں اجل کا یہ پیام آیا ہے ناناآج آخری رخصت کو غلام آیا ہے نانا
About this couplet
This is couplet 67 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶۷ / ۱۱۴