فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
خادم کو کہیں امن کی اب جا نہیں ملتیراحت کوئی ساعت مرے مولا نہیں ملتیدکھ کون سا اور کون سی ایذا نہیں ملتیہیں آپ جہاں، راہ وہ اصلا نہیں ملتیپابندِ مصیبت ہوں گرفتارِ بلا ہوںخود پاؤں سے اپنے طرفِ قبر چلا ہوں
About this couplet
This is couplet 68 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶۸ / ۱۱۴