فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

میں نے جو کہا قبر سے کیوں نکلے ہو باہرنہ سر پہ عمامہ ہے نہ ہے دوش پہ چادرفرمایا کہ ماتم میں ہوں اے بنتِ پیمبرمرنے کو پسر جاتا ہے برباد ہوا گھرترسیں گے وہ پانی کو جو نازوں کے پلے ہیںتلواریں ہیں اب اور مرے بچوں کے گلے ہیں

About this couplet

This is couplet 76 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۶ / ۱۱۴