فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

پھرتا ہے مری آنکھوں میں شبیرؔ کا مقتلوہ نہرِ فرات اور کئی کوس کا جنگلوہ بجلیاں تلواروں کی اور شام کا بادلدریا سے وہ پیاسوں کے ہٹا دینے کی ہلچلشبیرؔ کے سر پر سے یہ آفت نہ ٹلے گیدسویں کو محرم کی چھری مجھ پہ چلے گی

About this couplet

This is couplet 77 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۷ / ۱۱۴