فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
جاتے تھے دل افسردہ و غمگیں شہِ ابرارہر گام پہ ہوتے تھے عیاں موت کے آثارقبریں نظر آتیں کسی صحرا میں جو دو چارفرماتے تھے شہ فاعتبرو یا اولی الابصارجز خاک نہ ہوئے گا نشان بھی بدنوں کاانجام یہ ہے ہم سے غریب الوطنوں کا
About this couplet
This is couplet 88 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۸ / ۱۱۴