فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

احباب کہیں، گھر ہے کہیں، آپ کہیں ہیںآگے تو زمیں پر تھے پر اب زیرِ زمیں ہیںخالی ہیں مکاں آپ تہِ خاک مکیں ہیںجو دور نہ رہتے تھے وہ اب پاس نہیں ہیںحسرت یہ رہی ہوگی کہ پہنچے نہ وطن میںکیا منہ کو لپیٹے ہوئے سوتے ہیں کفن میں

About this couplet

This is couplet 89 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸۹ / ۱۱۴