فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
وہ عرض یہ کرتا تھا کہ سبطِ شہِ لولاکہے سخت پُر اندوہ، وہ صحرا تہہ افلاکہنستا ہوا واں جائے تو ہو جاتا ہے غمناکسنتا ہوں وہاں دن کو اڑاتا ہے کوئی خاکواں راتوں کو آتی ہے صدا سینہ زنی کیدرویش کی ممکن ہے سکونت نہ غنی کی
About this couplet
This is couplet 92 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۲ / ۱۱۴