فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
ملتا تھا کوئی مرد مسافر جو سر راہیوں پوچھتے تھے اس سے بہ حسرت شہہ ذی جاہایسا کوئی صحرا بھی ہے اے بندۂ اللہاک نہر سوا جس میں ہو چشمہ نہ کوئی چاہکیا ملتا ہے، اس دشت میں اور کیا نہیں ملتاہم ڈھونڈھتے پھرتے ہیں، وہ صحرا نہیں ملتا
About this couplet
This is couplet 91 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۱ / ۱۱۴