فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
اک شیر ترائی میں یہ چلاتا ہے دن راتکٹ جائیں گے یاں ہاتھ مرے لال کے ہیہاتکیا حال کہوں نہر کا، اے شاہِ خوش اوقاتپانی تو نہیں شور، پہ مشہور ہے یہ باتطائر بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں پیتےوحشی کبھی واں آن کے پانی نہیں پیتے
About this couplet
This is couplet 94 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۴ / ۱۱۴