فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
اس جا نہ اترتا ہے نہ دم لیتا ہے رہ گیرہے شور کہ اس آب میں ہے آگ کی تاثیرپیاسوں کے لئے اس کی ہر اک موج ہے شمشیراس طرح ہوا چلتی ہے جس طرح چلیں تیربجھتی نہیں واں پیاس کس تشنہ گلو کیبو آتی ہے اس نہر کے پانی میں لہو کی
About this couplet
This is couplet 95 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۵ / ۱۱۴