کلامِ انیسرباعیات
بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب
۱
بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے ابہشیار انیس تو مسافر ہے ابپیدا ہے سپیدی سحر پیری کیلے خواب سے چونک رات آخر ہے اب
۲۸ / ۹۰
کلامِ انیسرباعیات
بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے ابہشیار انیس تو مسافر ہے ابپیدا ہے سپیدی سحر پیری کیلے خواب سے چونک رات آخر ہے اب
۲۸ / ۹۰