کلامِ انیسرباعیات
آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہے
۱
آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہےاشکوں کی ردا منہ پہ پڑی رہتی ہےدونوں آنکھیں ہیں میری ساون بھادوںیاں سارے برس ایک جھڑی رہتی ہے
۴۸ / ۹۰
کلامِ انیسرباعیات
آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہےاشکوں کی ردا منہ پہ پڑی رہتی ہےدونوں آنکھیں ہیں میری ساون بھادوںیاں سارے برس ایک جھڑی رہتی ہے
۴۸ / ۹۰