کلامِ آرزوردیف الف

وہ سر بام کب نہیں آتا

۱

وہ سر بام کب نہیں آتاجب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتا

۲

بہر تسکیں وہ کب نہیں آتااعتبار آہ اب نہیں آتا

۳

چپ ہے شکوؤں کی ایک بند کتاباس سے کہنے کا ڈھب نہیں آتا

۴

ان کے آگے بھی دل کو چین نہیںبے ادب کو ادب نہیں آتا

۵

زخم سے کم نہیں ہے اس کی ہنسیجس کو رونا بھی اب نہیں آتا

۶

منہ کو آ جاتا ہے جگر غم سےاور گلہ تا بہ لب نہیں آتا

۷

بھولی باتوں پہ تیری دل کو یقیںپہلے آتا تھا اب نہیں آتا

۸

دکھ وہ دیتا ہے اس پہ ہے یہ حاللینے جاتا ہوں جب نہیں آتا

۹

آرزوؔ بے اثر محبت چھوڑکیوں کرے کام جب نہیں آتا

۱ / ۷۰